12 SAFAR KE IRADE SE ROZA NA RAKHNA
بِـسْـمِ الـلّٰـهِ الـرَّحْـمٰـنِ الـرَّحِـيـْمِ
🌎 پــیـغـام گروپ شــیـرور 🌎
⬇️ عـــنــــــــــوان ⬇️
سفر کا ارادہ اور روزہ
سوال نمبر ( ۱۲ )
اگر کسی شخص کا صبح صادق کے بعد سفر کا ارادہ ہو تو اس ارادے کی وجہ سے ایسے شخص کو اس دن کا روزہ نہ رکھنا جائز ہے؟
📚 الجواب وبالله التوفیق 📚
جواب :اللہ رب العزت کاارشادہے: فمن شھدمنکم الشھر فلیصمه
(البقرہ:158)
اس آیت کے ضمن میں امام رازی فرماتےہیں. روزہ اس شخص پر فرض ہے جو روزہ کے وقت مقیم ہو مسافرنہ ہو.
(احکام القرآن 1/256)
لہذا جو روزہ کی ابتداء کے وقت مقیم ہوگا اس پر روزہ رکھنا فرض ہوگا. اگر صبح صادق کے بعد سفر کا ارادہ ہو تو اس ارادہ سفر کی بناء پر روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے ، اس لیے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنے کے جواز کے لیے یہ شرط ہے کہ صبح صادق سے پہلے پہلے ہی اپنے گاوں کی ابادی چھوڑدے، اس لیے اگر کسی کا صبح صادق کے بعد سفر کا ارادہ ہو تو روزہ رکھے پھر دوران سفر روزہ مشکل معلوم ہوتو روزہ توڑ دے اور بعد میں قضاء کرلے.
(تحفة المحتاج مع حواشى 522/3) (كتاب الام 256/3)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
۱۳/ رمضان ١٤٤١ ھجری
۶ / مئ ۲۰۲۰ عیسوی
بـــروز:بــــــــــــدھ
سوالات کے لیے ان نمبرات کا استعمال کریں
⬇️⬇️⬇️⬇️
+919916131111
+918095734760
مــنـجــانـب
ترتیب و پیشکش ادارہ فکرو خبربھٹکل:
تـــرجـــمــہ:پیــغـــام گـــروپ شـــیـرور
👇👇👇
PAIGAAM GROUP SHIROOR
Comments
Post a Comment