21 SADQA-E-FITR KA MASLA
بِـسْـمِ الـلّٰـهِ الـرَّحْـمٰـنِ الـرَّحِـيـْمِ
🌎 پــیـغـام گروپ شــیـرور 🌎
⬇️ عـــنــــــــــوان ⬇️
صدقئہ فطر کا مسئلہ
سوال نمبر ( ۲۱ )
صدقہ فطر کا کیا حکم ہے؟
📚 الجواب وبالله التوفیق 📚
جواب:حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مسلمان مرد عورت ، آزاد و غلام پر رمضان کے( روزہ ختم ہونے پر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض کیا ہے۔
(بخاری:1506)
اس حدیث کی روشنی میں فقہاء نے ہر فرد کی طرف سے ایک صاع اناج .(چاول یا گہیوں) صدقہ فطر نکالنا فرض قرار دیا ہے۔ البتہ صاع کی مقدار میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے. جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک صاع 2100/گرام سے 2400/گرام کے درمیان رہتا ہے. بہتر یہ ہے کہ زیادہ مقدار میں ہی صدقہ فطر نکالا جائے.
(المجموع;6/85)
(الفقه المنهجي 1/ 230
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
۲٤/ رمضان ١٤٤١ ھجری
۱۷/ مئ ۲۰۲۰ عیسوی
بروز:اتـــــــــوار
سوالات کے لیے ان نمبرات کا استعمال کریں
⬇️⬇️⬇️⬇️
+919916131111
+918095734760
مــنـجــانـب
ترتیب و پیشکش ادارہ فکرو خبربھٹکل:
تـــرجـــمــہ:پیــغـــام گـــروپ شـــیـرور
👇👇👇
PAIGAAM GROUP SHIROOR
Comments
Post a Comment