25 SADQA-E-FITR KO MUAKKHAR KARNE KI GUNJAISH
بِـسْـمِ الـلّٰـهِ الـرَّحْـمٰـنِ الـرَّحِـيـْمِ
🌎 پــیـغـام گروپ شــیـرور 🌎
⬇️ عـــنــــــــــوان ⬇️
صدقئہ فطر کو مؤخر کرنے کی گنجائش
سوال نمبر ( ۲۵ )
اگرکوئی شخص صدقہ فطر اپنے قریبی رشتہ دار کو دینا چاہتا ہے اور اس قریبی رشتہ دار کوعید کے روز کے بعد ہی دینا ممکن ہو تو اتنی تاخیر کی گنجائش ہے؟
📚 الجواب وبالله التوفیق 📚
جواب:صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا افضل ہے.اور عید کی نماز کے بعد سے غروب تک موخر کرنا مکروہ ہے. اور عید کا دن گذرنے تک تاخیر کرنا حرام ہے. لہذا کسی قریبی رشتہ دارکے انتظار میں نمازعید کے بعد عید کا دن ختم ہونے تک انتظار کرنا مسنون ہے. لیکن عید کا دن گذرنے تک موخر کرنا جائز نہیں ہے. البتہ اس صورت میں رشتہ دار کی طرف سے کسی کو وکیل بنا کر صدقہ فطر عید کے روز ہی اس کے حوالہ کیا جائے کہ وہ بعد میں مستحق کو صدقہ فطر سپرد کردے
(تحفۃ المحتاج:1/478)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
۲۸/ رمضان ١٤٤١ ھجری
۲۱/ مئ ۲۰۲۰ عیسوی
بروز: جــمـــعــــرات
سوالات کے لیے ان نمبرات کا استعمال کریں
⬇️⬇️⬇️⬇️
+919916131111
+918095734760
مــنـجــانـب
ترتیب و پیشکش ادارہ فکرو خبربھٹکل:
تـــرجـــمــہ:پیــغـــام گـــروپ شـــیـرور
👇👇👇
PAIGAAM GROUP SHIROOR
Comments
Post a Comment