28 SHAWWAL KE 6 ROZE
بِـسْـمِ الـلّٰـهِ الـرَّحْـمٰـنِ الـرَّحِـيـْمِ
🌎 پــیـغـام گروپ شــیـرور 🌎
⬇️ عـــنــــــــــوان ⬇️
مسئلہ: شوال کے چھ روزوں کے بابت حکم
سوال نمبر ( ۲۸ )
شوال کے چھ روزے رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اور اس کی کیا فضیلت ہے؟
📚 الجواب وبالله التوفیق 📚
جواب:۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ/ 6 روزے رکھے تو گویا اس نے زمانہ بھر کے روزے رکھے. (مسلم:1164) جس کا مطلب یہ ہے رمضان کے تیس اور شوال کے چھ روزوں کی تعداد چھتیس (36) ہوتی ہے اور اللہ تعالی ایک نیکی کا اجر دس گنا بڑھا کر دیتے ہیں.اس اعتبار سے جس نے چھتیس روزے رکھے گویا اس نے سال کے تین سو ساٹھ دن روزے رکھے.
لہذا جو ہر سال کے چھتیس روزے کا اہتمام کرے گویا ثواب کے اعتبار سے پوری زندگی روزے رکھنے کے قائم مقام ہوگا.فقہاء نے مذکورہ حدیث کی بنیاد پر شوال کے چھ روزوں کا استحباب نقل کیا ہے. نیز ان روزوں کو مسلسل رکھنا افضل ہے. اگر مسلسل رکھنا ممکن نہ ہو تو شوال کے پورے مہینہ میں متفرق طور پر بھی رکھنے کی گنجائش ہے.
(المجموع 379/6)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
۲ / شوال ١٤٤١ ھجری
۲۵ / مئ ۲۰۲۰ عیسوی
بروز: پــــــــــــــیر
سوالات کے لیے ان نمبرات کا استعمال کریں
⬇️⬇️⬇️⬇️
+919916131111
+918095734760
مــنـجــانـب
ترتیب و پیشکش ادارہ فکرو خبربھٹکل:
تـــرجـــمــہ:پیــغـــام گـــروپ شـــیـرور
👇👇👇
PAIGAAM GROUP SHIROOR
Comments
Post a Comment