Posts

24 AWRATAW KE LIYE EID KI NAMAZ KA MASLA

  بِـسْـمِ الـلّٰـهِ الـرَّحْـمٰـنِ الـرَّحِـيـْمِ    🌎  پــیـغـام گروپ شــیـرور  🌎  ⬇️ عـــنــــــــــوان ⬇️ عورتوں کے لئے عید کی نماز کا مسئلہ سوال نمبر ( ۲۴ ) عورتوں کے لئے عید کی نماز ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟      📚 الجواب وبالله التوفیق 📚  جواب:عورتوں کے لیے عید کی نماز سنت ہے. البتہ عورتیں نماز عید اپنے گھروں میں اداکریں گی. نیز اگرکسی گھر میں عورتیں جماعت کے ساتھ نماز عید ادا کریں تو اس کی بھی گنجائش ہے. البتہ نماز میں عورت امام اپنی آواز کو پست کریں گی تاکہ اجنبی مرد اس کی آواز نہ سن سکے. نیز عورتوں کے لئے باجماعت نماز ادا کرتے وقت خطبہ مشروع نہیں ہے.ہاں اگر کوئی عورت وعظ ونصیحت کرئے تو کوئی حرج نہیں ہے. وتشرع ایضا للمنفرد.. والمراۃ….والمسافر۔ (الاقناع:1/258) یکرہ الحضور لذوات الھیئات ولو عجائز وللشابات وان کن مبتذلات بل یصلین فی بیوتھن ولا باس بجماعتھن…..ولاخطبة له … ای ولا لجماعة النساء….. فلو قامت واحدۃ منھن وظتھن بلا باس. (حاشیة الشروانی والعبادی:3/40) ➖ ➖➖➖➖➖➖➖➖ ۲۸/ رمضان ١٤٤١ ھجری ۲۱/ مئ ۲۰۲۰ عیسوی بروز: جــمـــعــــرات ...

23 LOCKDOWN (CURFEW) ME EID KI NAMAZ

  بِـسْـمِ الـلّٰـهِ الـرَّحْـمٰـنِ الـرَّحِـيـْمِ    🌎  پــیـغـام گروپ شــیـرور  🌎  ⬇️ عـــنــــــــــوان ⬇️ لوک ڈاؤن (کرفیو) میں عید کی نماز سوال نمبر (  ۲۳ ) کیا عید کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے یا تنہا گھر پر پڑھ سکتے ہیں ؟      📚 الجواب وبالله التوفیق 📚  جواب:دراصل عید کی نماز سارے علاقہ والوں کا ایک جگہ جمع ہو کر پڑھنا مسنون ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اگر عید کی نماز مساجد یا عیدگاہ میں ادا کرنے پر حکومت کی طرف سے پابندی رہی تو اس صورت میں لوگوں کو چاہیے کہ موجودہ قانون کے مطابق بقیہ فرض نمازوں کی طرح گھروں میں چار پانچ افراد مل کر جماعت کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کریں، اگر گھر میں صرف دو لوگ ہوں یا صرف میاں بیوی ہو تب بھی عید کی نماز باجماعت ادا کرنے کی گنجائش ہے۔ اور اگر امام خطبہ دے سکتا ہو تو نماز کے بعد دو خطبہ دینا سنت ہے۔ اگر کوئی عید کی نماز تنہا ادا کر رہا ہو تو اس وقت خطبہ دینامشروع نہیں ہے۔  امام بجیرمی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: قَوْلُهُ: سُنَّةٌ مُؤَكَّدَةٌ أَيْ فَيُكْرَهُ تَرْكُهَا .... وَتُسَنُّ جَمَاعَ...

22 BERON MULK KE SUKKAN KE LIYE APNE WATAN E ASLI ME SADQA-E-FITR NIKALNE KA MASLA

  بِـسْـمِ الـلّٰـهِ الـرَّحْـمٰـنِ الـرَّحِـيـْمِ    🌎  پــیـغـام گروپ شــیـرور  🌎  ⬇️ عـــنــــــــــوان ⬇️ بیرون ملک کے سکان کے لئے اپنے وطن اصلی میں صدقئہ فطر نکالنے کا مسئلہ سوال نمبر (  ۲۲  ) جو لوگ بیرون ملک یا بیرون شہر برسر روزگار مقیم ہیں وہ اپنا صدقہ فطر وطن اصلی میں نکالیں گے یا اقامت کی جگہ پر نکالنا ضروری ہے؟      📚 الجواب وبالله التوفیق 📚  جواب: جو شخص رمضان کے آخری دن کے غروب کے وقت جہاں مقیم ہے اس کے لئے اپنا صدقہ فطر نکالنےکے لئے اسی جگہ کا اعتبار ہوتا ہے. لہذا جو لوگ برسر روزگار بیرون ملک یا بیرون شہر مقیم ہیں وہ اپنا صدقہ فطر اسی جگہ پر ادا کریں گے. البتہ اگر اس جگہ پر صدقہ فطر لینے والے موجود نہ ہوں تو پھر کسی قریبی دوسری جگہ یا اپنے وطن اصلی میں منتقل کرسکتے ہیں۔  (المجموع 225/6) ➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ۲۵/ رمضان ١٤٤١ ھجری ۱۸/ مئ ۲۰۲۰ عیسوی بروز: پــــــــــــیر سوالات کے لیے ان نمبرات کا استعمال کریں ⬇️⬇️⬇️⬇️  +919916131111  +918095734760 مــنـجــانـب ترتیب و پیشکش ادارہ فکرو خبربھٹکل:   تـ...

21 SADQA-E-FITR KA MASLA

  بِـسْـمِ الـلّٰـهِ الـرَّحْـمٰـنِ الـرَّحِـيـْمِ    🌎  پــیـغـام گروپ شــیـرور  🌎  ⬇️ عـــنــــــــــوان ⬇️ صدقئہ فطر کا مسئلہ سوال نمبر (  ۲۱  ) صدقہ فطر کا کیا حکم ہے؟      📚 الجواب وبالله التوفیق 📚   جواب:حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مسلمان مرد عورت ، آزاد و غلام پر رمضان کے( روزہ ختم ہونے پر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض کیا ہے۔  (بخاری:1506) اس حدیث کی روشنی میں فقہاء نے ہر فرد کی طرف سے ایک صاع اناج .(چاول یا گہیوں) صدقہ فطر نکالنا فرض قرار دیا ہے۔ البتہ صاع کی مقدار میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے. جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک صاع 2100/گرام سے 2400/گرام کے درمیان رہتا ہے. بہتر یہ ہے کہ زیادہ مقدار میں ہی صدقہ فطر نکالا جائے. (المجموع;6/85) (الفقه المنهجي 1/ 230 ➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ۲٤/ رمضان ١٤٤١ ھجری ۱۷/ مئ ۲۰۲۰ عیسوی بروز:اتـــــــــوار سوالات کے لیے ان نمبرات کا استعمال کریں ⬇️⬇️⬇️⬇️  +919916131111  +918095734760 مــنـجــانـب ترتیب و پیشکش ادارہ فکرو خبربھٹکل:...

20 HAMILA AWR DOODH PILANE WALI AWRAT KE ROZAWN KA MASLA

  بِـسْـمِ الـلّٰـهِ الـرَّحْـمٰـنِ الـرَّحِـيـْمِ    🌎  پــیـغـام گروپ شــیـرور  🌎  ⬇️ عـــنــــــــــوان ⬇️ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے روزوں کا مسئلہ سوال نمبر ( ۲۰ ) حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کے روزوں کا کیا حکم ہے ؟ کیا یہ عورتیں روزہ چھوڑ سکتی ہیں ؟      📚 الجواب وبالله التوفیق 📚  جواب:حضرت انس رض فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے لیے روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہے  (سنن ترمذی:751) حدیث پاک سے پتہ چلاکہ حاملہ یا دودھ پلانے عورت کیلئے یہ اجازت ہے کہ وہ مشقت کے وقت روزہ      چھوڑ دے. جس کی تفصیل یہ ہے، کہ ١- اگر روزہ رکھنے سے اسے اپنی ذات کو نقصان پہنچنے کا خوف ہو ، یااپنے ساتھ ساتھ بچہ اورحمل کوبھی تکلیف کا اندیشہ ہوتو اس صورت میں وہ روزہ ترک کرے گی اور بعد میں اس پر صرف اس روزے کا قضا کرنا لازم ہوگا. ٢- اگر روزہ رکھنے سے اپنے بچے کو کوئی تکلیف ہونے کا خدشہ ہو اور اپنی ذات کوکسی قسم کی تکلیف کا اندیشہ نہ ہوتو ان کو روزہ نہ رکھنے کی اج...

19 LOCKDOWN ME YETIKAF KA MASLA

  بِـسْـمِ الـلّٰـهِ الـرَّحْـمٰـنِ الـرَّحِـيـْمِ    🌎  پــیـغـام گروپ شــیـرور  🌎  ⬇️ عـــنــــــــــوان ⬇️ لاک ڈاون میں اعتکاف کا مسئلہ سوال نمبر (  ۱۹ ) لاک ڈاؤن کی وجہ سے مردوں کے لیے گھروں میں اعتکاف کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟      📚 الجواب وبالله التوفیق 📚  جواب:اعتکاف کے صحیح اور درست ہونے کے لیے شرعی مسجد کا ہونا ضروری ہے مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ اعتکاف کرنا درست نہیں، کرونا وائرس کی وجہ سے ملک میں اکثر جگہوں پر لاک ڈاؤن ہے جس کی وجہ سے مساجد میں جمع ہونا قانوناً جرم ہے۔ اس لیے محلہ یا گاؤں میں سے اگر کوئی ایک یا دو افراد مسنون اعتکاف کرلے تو یہ سنت ادا ہوگی۔ چونکہ اعتکاف کا اہم مقصد لیلۃ القدر کی تلاش اور جستجو ہے اس لیے بقیہ تمام لوگ اپنے اپنے گھروں میں عبادتوں میں مشغول رہیں۔ واضح رہے کہ اگر کوئی مرد گھر میں اعتکاف کی نیت کرے تو اس کا اعتکاف درست نہیں ہوگا۔ علامہ خطیب شربيني رحمة الله علیه فرماتے ہیں: وَالِاعْتِكَاف سنة مُؤَكدَة وَهِي (مُسْتَحبَّة) أَي مَطْلُوبَة فِي كل وَقت فِي رَمَضَان وَغَيره بِالْإِجْمَاع ولإطلاق الْ...

18 ROZE KI HALAT ME GUSL KARNA

  بِـسْـمِ الـلّٰـهِ الـرَّحْـمٰـنِ الـرَّحِـيـْمِ    🌎  پــیـغـام گروپ شــیـرور  🌎  ⬇️ عـــنــــــــــوان ⬇️ روزہ کی حالت میں غسل سوال نمبر ( ۱۸ ) روزہ کی حالت میں ٹھنڈک حاصل کرنے یا بدن کی صفائی کے لیے مطلق غسل کرنے کا کیا حکم ہے؟      📚 الجواب وبالله التوفیق 📚 روزہ کی حالت میں بغیر کسی سبب کے صرف ٹھنڈک حاصل کرنے یا صفائی ستھرائی کے لیے غسل کرنا جائز ہے. لیکن صبح صادق سے پہلے کرلینا بہتر ہے اس لئے کہ اگر غسل کے دوران پانی کان کے اندر چلاجائے توروزہ باطل ہوگا۔اسی طرح غوطہ لگاکر غسل کرنے یا تیرنے کی صورت میں پانی کان کے اندر چلا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔لہذا تیرنے اور غوطہ لگانے کی صورت میں پانی کان کے اندر چلے جانے سے بچنا مشکل ہوتو غوطہ لگانا اورتیرنا حرام ہے امام رملی رحمة الله عليه فرماتے: ولو سبق ماء المضمضة أو الاستنشاق إلى جوفه المعروف أو دماغه (فالمذهب أنه بالغ) في ذلك (أفطر) لأن الصائم منهي عنها… ﻣﺎء اﻟﻐﺴﻞ ﻣﻦ ﺣﻴﺾ ﺃﻭ ﻧﻔﺎﺱ ﺃﻭ ﺟﻨﺎﺑﺔ ﺃﻭ ﻣﻦ ﻏﺴﻞ ﻣﺴﻨﻮﻥ ﻓﻼ ﻳﻔﻄﺮ ﺑﻪ ﻛﻤﺎ ﺃﻓﺘﻰ ﺑﻪ اﻟﻮاﻟﺪ ﺭﺣﻤﻪ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻭﻣﻨﻪ ﻳﺆﺧﺬ ﺃﻧﻪ ﻟﻮ ﻏﺴﻞ ﺃﺫﻧﻴﻪ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺎﺑﺔ ﻭ...